منگل یکم فروری 2022
اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دِکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں، اور نہ اللہ پر اِیمان رکھتے ہیں، نہ روزِ آخرت پر۔ اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بد ترین ساتھی ہوتا ہے۔ سورۃ النساء ، 38
سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات ( بدعت ) پیدا کرنا ہے( دین میں ) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ( قیامت)آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے صحیح بخاری، 7277
سوال: عبادت کے وقت ہمارا لباس اور حلیہ کیسا ہونا چاہئے؟ [سورۃ الأعراف، 7:31] یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ ترجمہ: اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی "زینت سے آراستہ" رہو.
▪ رَبَ إِِْشْرحْ لِي صَدرِيٌّ . وَيُسْرٌ لِي أَمْريٌّ ..
اللہ تعالیٰ آپکو ایسا طاقتور ایمان عطا فرمائیں کہ شیطان کا ہر وار اور ہر چال اسکے مقابلے میں فیل ہوجائے، رشتوں اور تعلقات میں ایسا خلوص عطا فرمائے کہ آپکی وجہ سے آپکے رشتے دار اور تعلق رکھنے والے جہنم کے راستےسے بچ کر جنت کےراستے پر گامزن ہوجائیں_ اللہ تعالی آپکو اعلی اخلاق عطا فرمائیں آپکی گفتگو میں ایسی جاذبیت ہو کہ دشمن بھی سنے تو دوست بن جائے آپ ایسا باکردار بن جائیں کہ زمین و آسمان کی مخلوقات آپکی عزت کرے اللہ تعالی آپ سے راضی ہو جائیں جب دنیا سے رخصت ہوں تو نیک فرشتے آپ کا استقبال کریں اے پرودگار، ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمالے جنہیں تو ہدایت فرماتا ہے اور وہ صراط مستقیم پر چلتے ہیں، جو توبہ کرتے ہیں اور جن کی توبہ تو قبول فرماتا ہے، جو تیرا خوب شکر ادا کرتے ہیں اور ان پر تو اپنا خاص کرم فرماتا ہے_ آمین یا رب العالمین
Popular posts from this blog
aaj ka din tarikh mn 6 April 2019
شیخ محمود آفندی
ترکی میں جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو کچھ علماء نے چھپ چھپ کر اور درختوں کے نیچے دیہات اور گاؤں میں وہاں کے بچوں کو دینی تعلیم دینی شروع کی جب وہاں کے لوگ فوج کو آتے دیکھتے تو فورا بچے کھیتی باڑی میں مشغول ہوجاتے یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ بچے کوئی تعلیم حاصل نہیں کر رہے بلکہ کھیتی باڑی میں مشغول ہیں ان طالبعلم بچوں میں شیخ محمود آفندی نقشبندی صاحب بھی شامل تھے، حضرت نے یوں دینی تعلیم کی تکمیل کی اور فراغت کے بعد یہی سلسلہاپنے گاؤں جاری رکھا ، اسی دوران حضرت آفندی کے دو خلفاء شہید کیے گیے تو حالات کے تناظر میں حضرت آفندی نے وہاں سے شہر کا رخ کیا جہاں ایک قدیم مسجد تھی وہاں رہتے ہوئے حضرت نے چالیس سال تک دین کی تدریس کا کام جاری رکھا۔ تقریبا اٹھارہ سال تک حضرت آفندی کے پیچھے کوئی نماز پڑھنے کیلئے تیار نہیں تھا اٹھارہ سال کے بعد آہستہ آہستہ لوگ آنے لگے اور حضرت آفندی سے فیضیاب ہوتے گئے ۔ آج جب اسی مسجد میں اذان ہوتی ہے تو جوق درجوق لوگ نماز کیلئے اس مسجد میں آنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں جو حضرت آفندی جیسے علماء کی محنت اور ...
Comments
Post a Comment